اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، فارس میں شائع ہونے والے اپنے ایک مضمون میں حجت کہیاری نے لکھا ہے کہ "مثلی لا یبایع مثل یزید" ولایتِ الٰہی کے نظریے کا ایک دائمی اصول ہے، جو دینی مشروعیت اور طاغوتی اقتدار کے درمیان واضح حد بندی کرتا ہے۔ اس جملے سے یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ مکتبِ امامت میں حق اور حقیقت کا تحفظ ہر اس مصلحت پر مقدم ہے جو ذلت کا باعث بنے۔
انہوں نے لکھا کہ رہبرِ شہیدِ انقلاب، امام خامنہ ای نے اس جملے کو محض ایک جذباتی نعرہ نہیں، بلکہ حکمرانی کے ایک مکمل نظریے کے طور پر پیش کیا۔ اس تصور کے مطابق ولایتِ الٰہی پر قائم کوئی بھی نظام، جب تک توحید اور عدل کی بنیادوں پر استوار رہے، نہ کسی ظالمانہ غلبے کو قبول کرتا ہے اور نہ ہی استکباری طاقتوں کی بالادستی کو جائز تسلیم کرتا ہے۔
مضمون کے مطابق، اس فکر میں بیعت سے انکار صرف ایک سیاسی اقدام نہیں، بلکہ ظالمانہ نظام اور اس کی مسلط کردہ سوچ کو مسترد کرنے کا اعلان ہے۔
مصنف کے بقول، رہبرِ شہیدِ انقلاب کی سیرت میں ظلم قبول نہ کرنا محض ایک انفرادی اخلاقی صفت نہیں بلکہ دینی حکمرانی کی بنیادی اساس ہے۔ ایک اسلامی حاکم جس طرح ظلم کرنے کا حق نہیں رکھتا، اسی طرح امت پر ظالم قوتوں کی مرضی مسلط ہونے دینے کا بھی مجاز نہیں، کیونکہ ظلم کے سامنے جھکنا دینی حکومت کی شناخت اور استقلال کو ختم کرنے کے مترادف ہے۔
انہوں نے مزید لکھا کہ اسی بنیاد پر رہبرِ شہیدِ انقلاب کی فکر میں مزاحمت کی حکمت عملی دراصل مکتبِ عاشورا کا منطقی تسلسل ہے؛ ایسا مکتب جو "مثلی لا یبایع مثل یزید" سے آغاز ہوتا ہے اور توحیدی معاشرے کے قیام تک باطل کے ساتھ ہر ذلت آمیز سمجھوتے کو مسترد کرتا ہے۔ یہی طرزِ فکر دینی حکمرانی کو مفاد پرستانہ سیاست سے الگ کرکے عزت، عدل اور بندگیِ الٰہی کے اصولوں پر استوار کرتا ہے۔
آپ کا تبصرہ